لکھنؤ،27اکتوبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) ہندومہا سبھا کے لیڈر کملیش تیواری کی بیوی کرن تیواری اپنے شوہر کی موت کی جاری تحقیقات سے مطمئن نہیں ہے اور اس لئے انہوں نے اس معاملے کی ابھی این آئی اے کی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اتوار کو کہا کہ میں تفتیش سے مطمئن نہیں ہوں اور این آئی اے (قومی جانچ ایجنسی) سے اس پورے معاملے کی جانچ کروانے کا مطالبہ کرتی ہوں۔ کرن نے کہا کہ میں حکومت کی طرف سے دیئے گئے 15 لاکھ روپے کی رقم کو اس وقت تک اپنے پاس رکھوں گی جب تک کہ ایک بی جے پی کے رہنما کی اسی طرح سے قتل نہیں کر دیا جاتااور پھر اس میں برابر کی رقم ملا کر 30 لاکھ روپے کی رقم اس کے اہل خانہ کو دوں گی۔انہوں نے کہا کہ میں تحقیقات سے خوش نہیں ہوں،یہ کیس کیوں نہیں این آئی اے کو سپرد کیا جا رہا ہے۔ قتل سے ایک دن قبل میرے شوہر نے ناکہ ہندولی کے ایس ایچ او کو جان کے خطرے کے بارے میں بتایا تھا، لیکن انہوں نے اس جانب توجہ نہیں دی۔انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت تک سکون سے نہیں بیٹھے گی جب تک ان کے شوہر کے حقیقی قاتل کو پھانسی پر نہیں لٹکادیا جاتا۔ انہوں نے اہل خانہ کو زیڈ پلس سیکورٹی کا مطالبہ اور واقعہ کے واحد چشم دید گواہ کی حفاظت کے تئیں تشویش ظاہر کی ہے۔ کملیش تیواری کا ان آفس میں 18 اکتوبر کو قتل کر دی گیا تھا۔ اس معاملے میں گجرات انسداد دہشت گردی دستہ (اے ٹی ایس) نے 22 اکتوبر کو اشفاق حسین (34) اور معین الدین خورشید پٹھان (27) کو گرفتار کیا تھا. اس صورت میں پانچ اور ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جس پر قتل کی سازش اور قاتلوں کو مدد پہنچانے کا الزام ہے۔